ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تلنگانہ میں بی آر ایس، بی جے پی اور ایم آئی ایم ملے ہوئے ہیں، راہل گاندھی کا تلنگانہ دورے کے تیسرے اور آخری دن حکمراں جماعتوں پر شدید حملہ

تلنگانہ میں بی آر ایس، بی جے پی اور ایم آئی ایم ملے ہوئے ہیں، راہل گاندھی کا تلنگانہ دورے کے تیسرے اور آخری دن حکمراں جماعتوں پر شدید حملہ

Sat, 21 Oct 2023 13:34:01    S.O. News Service

حیدرآباد، 21/اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی) تلنگانہ دورے کے تیسرے اور آخری دن کانگریس لیڈر راہل گاندھی نےجگتیال ضلع میں عوامی جلسہ سے خطاب کیا۔انہوں  نے اس پرہجوم جلسہ میں  اپنی تقریر کے دوران وزیراعظم مودی اور کے سی آر پرتنقید کی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ’’تلنگانہ میں  کانگریس کے ببر شیروں  کی سرکار ہوگی،یہاں  کے عوام کی سرکار ہوگی۔کانگریس کے ببر شیر بی آر ایس کی سرکار کو اکھاڑ پھینکیں  گے۔

’’ تلنگانہ کے خواب کو پورا کرنے کے لئے پہلا قدم ذات پر مبنی مردم شماری ہوگی، وزیراعظم مودی اور وزیراعلیٰ کے سی آر یہاں  ذات پر مبنی مردم شماری نہیں  کروانا چاہتے ہیں ، یہ دونوں  اوبی سی طبقہ کی آبادی کتنی ہے یہ بتانا نہیں  چاہتے، کانگریس تلنگانہ کے اس خواب کو پورا کرے گی۔ ‘‘ انہوں  نے یہ بھی کہا کہ ’’میں  نے ذات پر مبنی مردم شماری کیلئے لوک سبھا میں آواز اٹھائی لیکن وزیراعظم مودی نے میرے سوالوں کا جواب نہیں  دیا ‘‘ 

 راہل گاندھی نے حکمراں  جماعت بی آر ایس اور بی جے پی پر لفظی حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ بی آرایس اور بی جے پی ایک ہی ہیں۔‘‘ یہ بھی کہا کہ ’’تلنگانہ میں  بی جے پی ، بی آر ایس اور اے آئی ایم آئی ایم ملے ہوئے ہیں ، ہم جہاں  بھی انتخاب لڑتے ہیں ، وہاں  بی جے پی کی مدد کرنے کیلئے ایم آئی ایم اپنے امیدوار کھڑے کردیتی ہے۔‘‘انہوں نے تلنگانہ کی حکمراں جماعت پر مرکزی حکومت کی حمایت کا الزام لگایا۔ راہل نے کہا کہ پارٹی نے لوک سبھا میں تمام بلز کی حمایت کی تھی۔ 

 رپورٹ کے مطابق راہل گاندھی نے ریاست کے جگتیال ضلع میں منعقدہ وجئے بھیری بس یاترا میں حصہ لیا۔اس موقع پر انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دہلی میں ان کا گھر لوک سبھا کی رکنیت کی منسوخی کے بعد خالی کر دیا گیا تھا لیکن ان کا گھر ملک کے عوام کے دلوں میں ہے۔ انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ کمزور طبقات کی مردم شماری کروائی جائے۔ اوبی سی ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہیں ۔،ریاست کی چندرشیکھرراؤ حکومت انہیں ریزرویشن دینے کے لئے آگے نہیں آرہی ہے۔ مودی او رچندرشیکھرراؤ او بی سی کے ساتھ کھڑے ہونے کو تیار نہیں ہیں ۔ او بی سی کی تعداد کیوں نہیں گنی جاتی؟ ان لوگوں کے لیے جو بجٹ ہے، اس بارے میں سوچیں کہ آپ کتنا خرچ کر رہے ہیں ۔ ملک اور ریاست میں او بی سی کی تعداد۵۰؍ فیصد تک ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عوام کی رقم جمع کرتے ہوئے اڈانی کی جیب بھری جارہی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ چندرشیکھرراؤ ڈکٹیٹر جیسا سلوک کر رہے ہیں۔

 انہوں نے کہاکہ ریاست میں کانگریس کی حکومت بننے کے بعد اس بات کو یقینی بنایاجائے گا کہ ہلدی کے کاشتکاروں کو مناسب قیمت ملے۔ ہماری حکومت آئے گی تو ہم ریاست میں  بند پڑنے والے شکر کے کارخانوں  کو شروع کریں  گے۔ کانگریس پارٹی کا عوام کے ساتھ جو تعلق ہے وہ محبت ہے، تعلق ہے، کانگریس اور عوام کا تعلق دہائیوں پرانا ہے۔

  قبل ازیں کانگریس کی وجئے بھیری یاترا کے ایک حصے کے طور پر، جگتیا ل میں ، این اے سی بس اسٹاپ پر مسافروں نے ان کا استقبال کیاگیا ۔ اتنا ہی نہیں راہل گاندھی جس بھی علاقے سے گزرےوہاں  ان کا پرجوش استقبال کیا گیا۔ ریلی کے دوران راہل گاندھی نے کونڈاگٹو میں واقع ایک دکان پر رک کر اپنے ہاتھوں  سے ڈوسا بنایا اور عام لوگوں  کو کھلایا بھی۔ اس ویڈیو کو کانگریس کے ایکس ہینڈل سے پوسٹ کیا گیا ، جس کے کیپشن میں ’راہل انّا‘ لکھا ہوا ہے۔ راہل نے عام شہریوں  سے ملاقات کی ، بچوں میں چاکلیٹ تقسیم کئے۔ 


Share: